چنئی، 17؍اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)تمل ناڈو اسمبلی میں آج زبردست ہنگامہ ہوا۔حکمراں انادرمک کے ایک رکن نے بالواسطہ طور پر اپوزیشن لیڈر ایم کے اسٹالن کا مذاق اڑانے والا تبصرے کردیا جس کی ڈی ایم نے شدید مخالفت کی۔اس کی وجہ سے ڈی ایم کے سبھی اراکین کو ایوان سے باہر کر دیا گیا اور معطل کر دیا گیا۔اسمبلی اسپیکر پی دھن پال نے اسمبلی کے مارشل کو ڈی ایم کے ارکان کو باہر نکالنے کا حکم دیا۔اس سے پہلے اپوزیشن کے رکن کھڑے ہو کر تبصرے کو ریکارڈ سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن صدر نے ان کے مطالبہ کو مسترد کر دیا اور ان سے ایوان کو معمول کے مطابق چلانے میں تعاون کرنے کو کہا۔بعد میں حکومت نے ڈی ایم کے ارکان کو ایک ہفتے کے لیے معطل کرنے کی تجویز پیش کی جسے صوتی ووٹنگ سے منظور کر لیا گیا ۔عمارت اور آئی ٹی محکموں کے لیے گرانٹ کے مطالبہ کو لے کر ہو رہی بحث کے دوران یہ ہنگامہ اس وقت ہوا جب انا ڈی ایم کے رکن ایس گناسیکرن نے اسٹالن کا نام لیے بغیر ’ناماکو نامے‘پروگرام پر کچھ تبصرہ کیا جسے اس سال اسمبلی انتخابات سے پہلے ڈی ایم کے خزانچی نے شروع کیا تھا۔ناماکو نامے پروگرام کے دوران اسٹالن نے ریاست کا دورہ کیا تھا اور لوگوں سے بات چیت کی تھی۔پروگرام کے بارے میں کئے گئے تبصرے پر ڈی ایم کے ارکان نے سخت اعتراض کیا۔وہ چاہتے تھے کہ اسمبلی اسپیکر اسے ایوان کی کارروائی سے ہٹا دیں۔دھن پال نے حالانکہ کہا کہ ممبر اسمبلی نے براہ راست طور پر کسی کا ذکر نہیں کیاہ ، لہذا تبصرے کو ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایوان میں ڈی ایم کے ڈپٹی لیڈر درئی مروگن نے کہا کہ ناما کو نامے ا سٹالن کی پہل تھی، لہذا تبصرہ صرف انہیں کے تناظر میں کیا گیا ہے اور انہوں نے تبصرے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔